ابنا: پریس ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق جنرل جان ایلن نے کہا ہے کہ امریکہ کو دوہزار چودہ کے بعد بھی طے شدہ پروگرام سے ہٹ کر افغانستان میں اپنی فوج باقی رکھنا چاہیے۔ قابل ذکر ہے امریکی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ دوہزار چودہ کے اختتام تک امریکی فوج افغانستان سے انخلا کردے گي۔ ادھر امریکی حکام افغاں حکومت سے مذاکرات کرکے اپنی فوجی موجودگي کو طولانی بنانا چاہتے ہیں اور دوہزا چودہ کے بعد بھی افغانستان میں باقی رہنا چاہتے ہیں۔امریکی حکام یہ کوششیں ایسے عالم میں یہ کوششیں کررہے ہیں جبکہ سیاسی اور فوجی ماہرین کا کہنا ہےکہ افغانستان میں امریکہ کی اسٹراٹیجی ناکام ہوچکی ہے اور امریکہ افغانستان میں امن قائم کرنے میں بری طرح ناکام ہوچکا ہے اور اس میں امن قائم کرنے کی توانائي نہیں ہے۔ واضح رہے افغان عوام اپنے ملک پر بیرونی افواج کےقبضے کے مخالف ہیں اور چاہتے ہیں کہ یہ افواج جلد از جلد ان کے ملک سے نکل جائیں۔ ادھر اطلاعات ہیں کہ ڈنمارک کے وزیر دفاع آج اچانک افغانستان پہنچے ہیں۔ فارس نیوز کی رپورٹ کے مطابق پیٹر بارترام افغانستان میں اپنے ملک کے فوجیوں کی سرگرمیوں کا جائزہ لیں گے۔ افغانستان میں ڈنمارک کے سات سو پچاس فوجی تعینات ہیں۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۲۴۲
31 مئی 2013 - 19:30
News ID: 425120
افغانستان میں امریکی اور نیٹو افواج کے سابق کمانڈر نے کہا ہے کہ امریکی فوج کو افغانستان میں دوہزار سترہ تک تعینات رہنا چاہیے۔